دیکھ ہمارے ماتھے پر یہ دشتِ طلب کی دھول میاں
ہم سے عجب ترا درد کا ناطہ، دیکھ ہمیں مت بھول میاں

اہلِ وفا سے بات نہ کرنا، ہو گا ترا اصول میاں
ہم کیوں چھوڑیں ان گلیوں کے پھیروں کا معمول میاں

یونہی تو نہیں دشت میں پہنچے، یونہی تو نہیں جوگ لیا
بستی بستی کانٹے دیکھے، جنگل جنگل پھول میاں

یہ تو کہوکبھی عشق کیاہے؟ جگ میں ہوئےہو رٍسوا بھی؟
اسکے سوا ہم کچھ بھی نہ پوچھیں، باقی بات فضول میاں

نصب کریں محرابِ تمنا، دید و دل کو فرش کریں
سنتے ہیں وہ کوئے وفا میں آج کریں گے نزول میاں

سن تو لیا کسی نار کی خاطر کاٹا کوہ، نکالی نہر
ایک ذرا سے قصے کو اب دیتے کیوں ہو طول میاں

کھیلنے دیں انہیں عشق کی بازی، کھیلیں گے تو سیکھیں گے
قیس کی یا فرہاد کی خاطر کھولیں کیا اسکول میاں

اب تو ہمیں منظور سے یہ بھی، شہر سے نکلیں، رسوا میاں
تجھ کو دیکھا، باتیں کر لیِں، محنت ہوئی وصول میاں

انشا جی کیا عذر ہے تم کو، نقد دل و جاں نذر کرو
روپ نگر کے ناکے پر یہ لگتا ہے محصول میاں