دل کی میری بے قراری مجھ سے کچھ پوچھو نہیں
شب کی میری آہ و زاری مجھ سے کچھ پوچھو نہیں

بارِ غم سے مجھ پہ روز ہجر میں اک اک گھڑی
کیاکہوں ہےکیسی بھاری مجھ سےکچھ پوچھو نہیں

میری صورت ہی سے بس معلوم کر لو ہمدمو
تم حقیقت میری ساری مجھ سے کچھ پوچھو نہیں

شام سے تا صبح جو بستر تم بن رات کو
میں نے کی اختر شماری مجھ سے کچھ پوچھو نہیں

اے ظفر جو حال ہے میرا کروں گا گریباں
ہو گی ان کی شرمساری مجھ سے کچھ پوچھو نہیں