ضلع جہلم سے چودہ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک حساس علاقے میں موجود تھانہ چوٹالہ اپنی طرز کا واحد تھانہ ہے جو کہ جرائم کی آمجگاہ بن چکا ہے۔جہلم کی سب سے بڑی یونین کونسلوں کی ترجمانی کرنیوالا تھانہ چوٹالہ آج کل عوام لناس کے لئے عذاب بنا ہوا ہے۔ایس ایچ او راجہ منیب کی اس تھانہ میں تعیناتی عوام کو دن بدن مشکلوں میں دھکیل رہی۔کھلے آم ایک بار پھر سے نشے کا کاروبار گرم ہو چکا ہے۔انسانی سمگلنگ کا دھندہ بھی یہاں تعینات ایس ایچ او راجہ منیب کی سرپرستی میں زوروں پر ہے۔عوام سچ اور حق کی تلاش کیلئے تھانے کی بجائے ڈی پی او آفس پہ انحصار کر رہی ہے اور پیسے کا راج تھانہ چوٹالہ میں ایک بار پھر عام ہو چکا ہے۔تھانہ چوٹالہ کے موجودہ ایس ایچ او کا شمار جہلم کے بدنام ترین ایس ایچ اوز میں ہوتا ہے کیونکہ وہاں کی عوام کا کہنا ہے کہ تھانہ چوٹالہ کی حدود میں ہونے والے تمام جرائم ایس ایچ او راجہ منیب کی ہی سرپرستی میں ہوتے ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ تھانے میں آنے والے کسی بھی مظلوم کی داد رسی اول تو ممکن ہی نہیں اور اگر تھوڑا سا ریلیف مل بھی جاتا ہے تو اس کے لئے سائل کو بھاری رشوت دینی پڑتی ہے۔ذرائع کے مطابق عوام سے ہونے والی گفتگو سے صاف عیاں ہے کہ پولیس گردی کی تمام حدیں عبور کرنے والا راشی ایس ایچ او راجہ منیب علاقے کے مسائل حل کرنے کی بجائے مسائل بڑھانے کی مشین بن چکا ہے۔جب سے راجہ منیب کی تھانہ چوٹالہ میں ٹرانسفر کے بعد واپسی ہوئی ہے اس نے پہلے سے زیادہ ریٹ بڑھا دیئے ہیں۔نہ صرف ریٹ بڑھائے ہیں بلکہ ایک پارٹی اگر کم پیسے دیتی ہے تو دوسری کے ساتھ ساز باز کر کے اس سے زیادہ رشوت لے کر پہلی پارٹی پر پہلے سے زیادہ غیض و غضب سے ظلم کے پہاڑ توڑتا ہے ۔ یعنی راجہ منیب قانون کو اپنی باندی سمجھ کر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے قانون کی کھلے عام دھجیاں بکھیرتا ہے جو کہ اب اس کا معمول بن چکا ہے۔اگر ایس ایچ او کے نمبر پر کال کی جائے تو اس کا ڈرائیور کال پک کرتا ہے اور جس سائل سے بات نہیں کرنی ہوتی اسے ایس ایچ او صاحب کے میٹنگ میں یا گشت پر جانے کا روائتی بہانہ کر کے ٹال دیتا ہے۔کوٹ بصیرہ کے رہائشی ایک حساس ادارے کے ریٹائرڈ ملازم ملک دلبر صاحب نے ذرائع کو بتایا کہ اس نے ایک بلڈنگ کی تعمیر رکوانے کے لئے سٹے آرڈر لے رکھا ہے مگر سٹے آرڈر کے باوجود راجہ منیب اپنی سرپرستی میں بھاری رشوت کے عوض اٰس بلڈنگ کی تعمیر اپنی سرپرستی میں کروا رہا ہے۔ہمارے ذرائع کے رابطہ کرنے پر ایس ایچ او سمیت تمام عملے نے اپنا موقف دینے سے انکار کر دیا جو اس بات کا واضع اشارہ ہے کہ تھانہ چوٹالہ کا آوے کا آوہ ہی بگڑہ ہوا ہے۔عوام بہت جلد ایک بڑی ریلی لے کے ڈی پی او آفس جہلم جانے کا سوچ چکی ہے امید ہے ایسے اقدام سے قانون کی بند آنکھیں کھولی جا سکےں گی۔ہم وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس کا مطالبہ کرتے ہیں۔
00447950897299
mrmalik0044@gmail.comY