ایران اور مغربی دنیا کے مابین برف پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔ جو اس صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، اسے پہل کرنا ہو گی۔ نائب جرمن چانسلر زیگمار گابریل اسی سلسلے میں ایران پہنچ چکے ہیں۔

نائب جرمن چانسلر زیگمار گابریل کا یہ دورہ ایران جرمن اقتصادیات کو اربوں یورو کا فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اس دورے کی منزل ایرانی دارالحکومت تہران ہے۔ زیگمار گابریل نائب جرمن چانسلر کے علاوہ وزیر اقتصادیات اور وزیر توانائی کے عہدوں پر بھی فائر ہیں۔ جرمن تاجروں کا ایک چھوٹا سا وفد بھی گابریل کے ہمراہ ہے۔ ان کا ہدف جوہری معاہدے کے بعد ایران کے ساتھ تجارت کے نئے امکانات تلاش کرنا ہے۔

اس دورے کی منصوبہ بندی عالمی طاقتوں اور ایران کے مابین جوہری معاہدے کے طے ہونے سے بہت پہلے ہی کر لی گئی تھی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ نائب جرمن چانسلر کے ہم راہ سفر کرنے والے افراد کی ویزا درخواستیں دو ہفتے قبل ہی جمع کرا دی گئی تھیں۔

وہ اس دوران ایرانی سربراہ مملکت حسن روحانی سے ملیں گے جبکہ حکومتی قیادت سے ملاقاتیں بھی ان کے پروگرام میں شامل ہیں۔ زیگمار گابریل کی ایران کے مرکزی بینک کے گورنر اور ایوان و صنعت و تجارت کے صدر سے بھی ملاقاتیں طے ہیں۔ تاہم منگل کے روز اپنے دورے کے اختتام سے قبل وہ تاریخی ایرانی شہر اصفہان بھی جائیں گے۔

1970ء کی دہائی ایران یورپ سے باہر جرمنی کا دوسرا بڑا تجارتی ساتھی ہوا کرتا تھا۔ 2005ء میں ان دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم 4.8 ارب یورو کے برابر تھا۔ تاہم اس کے بعد ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ ایران کے ساتھ تجارت کا یہ خلاء چین اور کوریا نے پورا کیا۔ جرمن صنعت و تجارت کے اندازوں کے مطابق مشینوں، کار سازی، تعمیرات، پانی کی ترسیل اور کوڑے کرکٹ ٹھکانے لگانے کے طریقوں کے علاوہ قابل تجدید توانائی اور صحت کے شعبے میں جرمن کمپنیاں ایران کے ساتھ تعاون کر سکتی ہیں۔

نائب جرمن چانسلر نے ایران کے دورے کے آغاز پر اسرائیل کے وجود کے حق میں بات کی ہے۔ تین روزہ دورہ ایران کے موقع پر گابریل نے مزید کہا کہ اس دوران اقتصادی روابط کو مزید بہتر بنانے پر تو بات ہو گی ہی’’ تاہم یقیناً اس دوران مشکل موضوعات پر بھی تبادلہ خیال ہو گا، جن میں انسانی حقوق اور اسرائیل سے تعلقات شامل ہیں‘‘۔ اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین جوہری معاہدے کا طے ہونا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ ’’اس کے باوجود اور بھی کئی اقدامات ہیں، جن پر عمل کیا جانا لازمی ہے۔ یہ پر امن طریقے سے مسئلے کو حل کرنے کا ایک اہم اشارہ ہے‘‘۔