جو حادثے یہ جہاں میرے نام کرتا ہے
بڑے خلوص سے دل نذر جام کرتا ہے

ہم ہی سے قوس و قزح کو ملی ہے رنگینی
ہمارے در پہ زمانہ قیام کرتا ہے

ہمارے چاک گریباں سے کھیلنے والو
ہمیں بہار کا سورج سلام کرتا ہے

یہ میکدہ ہے یہاں کی ہر اک شے کا حضور
غم حیات بہت احترام کرتا ہے

فقیہہ شہر نے تہمت لگائی ساغر پر
یہ شخص درد کی دولت کو عام کرتا ہے