جرمنی میں رمضان کے اختتام پر مسلم طلباء عید کے پہلے روز چھٹی کر سکتے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کو ضوابط طے کرنے کا حق حاصل ہے۔

اس سال جرمنی میں زیادہ تر مسلمان عید جمعہ 17 جولائی کو منائیں گے تاہم اسکولوں کے بچوں کے لیے اس دن کی چُھٹی کا حساب بھی مختلف صوبوں میں مختلف ہے۔ شمالی جرمن شہر ہیمبرگ میں مسلمان بچوں کے لیے عید کی چھٹی باقاعدہ تہواروں کی چھٹی سے متعلق قوانین کا حصہ ہے جبکہ صوبے میکلنبرگ فورپورمن کی حکومت نے یہ فیصلہ اسکولوں پر چھوڑ دیا ہے کہ عید کے پہلے روز اسکول کے مسلمان بچوں کو چھٹی دی جائے یا نہیں۔

اس بارے میں جرمنی کے ایونجلیکل چرچ کے پریس دفتر نے ایک سروے کروایا ہے۔ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے اختتام پر منایا جانے والا یہ تہوار دراصل مسلمانوں کے دو سب سے بڑے مذہبی تہواروں عید الطفر اورعید الاضحی میں سے ایک ہے۔ عید کے روز اسکولوں میں مسلمان بچوں کو چھٹی دینے کا فیصلہ دارالحکومت برلن، شہر ہیمبرگ اور اور بریمن میں کیا گیا ہے۔

ان شہروں میں عید کی چھٹی کو مسیحییوں کے تہواروں کی طرح چھٹی کے دن کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ ہیمبرگ کے اسکولوں میں ہر مسلمان بچہ عید کی ایک چھٹی کی خواہش ظاہر کر سکتا ہے اور اُس کی یہ خواہش پوری کی جانے لگی ہے۔

بریمن میں بھی مسلمان بچوں کے لیے عید کے پہلے روز کی چھٹی قانونی طور پر تسلیم کر لی گئی ہے۔ برلن میں اسے مذہبی بنیادوں پر دی جانے والی ایک چھٹی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور اس چھٹی کے لیے مسلمان طالبعلم کو اسکول انتظامیہ کو درخواست دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس طرح زیادہ تر جرمن صوبوں میں کسی نا کسی حکم نامے یا ریگولیشن کے ذریعے مسلمان بچوں کو ایک دن کی چھٹی دینے کا فیصلہ موجود ہے۔ مثال کے طور پر 16 جرمن صوبوں میں سے 10 میں مسلمان بچوں اور اُن کے والدین کو اسکول انتظامیہ کو ایک درخواست دینا پڑتی ہے تاکہ بچے کو ایک دن کی چھٹی مل جائے اور وہ اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ عید منا سکے۔

اس سال جرمنی میں زیادہ تر مسلمان عید جمعہ 17 جولائی کو منائیں گے تاہم اسکولوں کے بچوں کے لیے اس دن کی چھٹی کا حساب بھی مختلف صوبوں میں مختلف ہے

صوبے ہیسے میں بھی عید کا دن قانونی طور پر اسکول کے مسلمان بچوں کے لیے چھٹی کا دن قرار دے دیا گیا ہے۔ اس سلسلے مں صوبے تھیورنگیا اور صوبہ میکلنبرگ فورپورمن میں کوئی قانونی ضابظہ نہیں پایا جاتا ہے۔ یہاں کے اسکولوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنے مسلمان طلبا کو عید کے روز چھٹی دیں یا نہیں۔

دریں اثناء جرمنی میں مسلمانوں کی مرکزی مشاورتی کمیٹی کے صدر ایمن ماژیک نے عید کی چھٹی کے بارے میں مختلف جرمن صوبوں کے فیصلوں پر اطمینان ظاہر کیا ہے ۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ مسلمانوں کے لیے عید کی چھٹی کو تمام جرمن صوبوں میں یکساں تسلیم کیا جائے۔ ایمن ماژیک کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض جرمنی میں سب مسلمانوں کو ایک دن کام سے چھٹی دینے کا نہیں ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ جرمنی میں تمام مسلمان ملازمین اس دن کی چھٹی لے سکیں۔