تیرے جانے کے بعد یہ کیا ہوا ہرے آسماں کو ترس گئے
گھرے ہم بھنور میں کچھ اسطرح کھلے بادباں کو ترس گئے

مرے شہر کے جو چراغ تھے انہیں آندھیوں نے بجھا دیا
چلی ایسی اب کے ہوائے دل کہ مکیں مکاں کو ترس گئے

یہ عجیب خوف و ہراس ہے کوئی دور ہے کوئی پاس ہے
وہ جو آشیاں کے تھے پاسباں وہی آشیاں کو ترس گئے

جنہیں پیار پر رہی دسترس وہی دور ہم سے ہیں اس برس
اے بہار تیری بہار میں درِ دوستاں کو ترس گئے

تھے جو کل تلک مرے آشنا سبھی یار نکلے وہ بے وفا
سدا خوش رہیں مرے خوش نوا بھلے ہم زباں کو ترس گئے

وہ جو جان سے بھی عزیز تھے وہی لوگ میرے رقیب تھے
بھلا کیسے اپنے نصیب تھے کہ کہاں کہاں کو ترس گئے

نہ وہ راگ ہے نہ وہ راگنی نہ وہ چاند ہے نہ وہ چاندنی
مری خواہشوں کے جو تیر تھے وہ کڑی کماں کو ترس گئے

نہ ہی تذکرہ یہاں ہیر کا نہ ہی ذکر مصرعئہ میر کا
حسن ایسے کتنے ہی بے نوا شب داستاں کو ترس گئے