جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے اوگرا عمل درآمد کیس کی سماعت کی۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب فوزی ظفرنے عدالت کوبتایا کہ توقیر صادق تاحال گرفتار نہیں ہو سکے ہم پوری کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری سے متعلق موجودگی کی خبر تب ملی جب وہ لاہور تھے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے استفسارکیا کہ جب وہ بڑے گھر میں تھے؟ نیب پراسکیوٹرنے عدالت کوبتایا کہ توقیر صادق کے معاملے پر چیئرمین نیب سمیت ہم سب کو دھمکیاں مل رہی ہیں ۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ چوروں کو گرفتار نہیں کیا جاےٴ گا تو دھمکیاں ہی ملیں گی۔ قومی خزانے کے چورنہیں پکڑسکتے تودہشتگردوں کوکیا پکڑیں گے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ دھمکیاں سب کوملتی ہیں جو کام ملا ہو کرنا ہی پڑتا ہے اگر توقیر صادق کو گرفتارنہیں کر سکتے تو تحریری طور پر لکھ کر دے دیں۔ نیب کے تفتیشی افسروقاص احمد نے عدالت کوبتایا کہ ہم نے ایک بارٹریس کیاتھا کہ توقیرصادق موٹروے پرسفرکررہا ہے لیکن موٹروےپولیس نے گرفتاری میں تعاون نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے آئی جی موٹروے پولیس اورآئی جی پنجاب سے جواب طلب کرتے ہوئے اوگرا عمل درآمد کی سکی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔