تم چلی جائو گی، پرچھائیاں رہ جائیں گی
کچھ نہ کچھ حسن کی رعنائیاں رہ جائیں گی
تم تو اس جھیل کے ساحل پہ ملی ہو مجھ سے
جب بھی دیکھوں گا یہیں مجھ کو نظر آئو گی
یاد مٹتی ہے نہ منظر کوئی مٹ سکتا ہے
دور جاکر بھی تم اپنے کو یہیں پائو گی

کھلکے رہ جائیگی جھونکوں میں بدن کی خوشبو
زلف کا عکس گھٹائوں میں رہیگا صدیوں
پھول چپکے سے چرا لیں گے لبوں کی سرخی
یہ جواں حسن فضائوں میں رہے گا صدیوں

اس دھڑکتی ہوئی شاداب وحسیں وادی میں
یہ نہ سمجھو کہ ذرا دیر کا قصہ ہو تم
اب ہمیشہ کے لیے میرے مقدر کی طرح
ان نظاروں کے مقدر کا بھی حصہ ہو تم

تم چلی جائوگی پرچھائیاں رہ جائیں گی!
کچھ نہ کچھ حسن کی رعنائیاں رہ جائیں گی