بے نام سا اک درد ہے جذبات میں کیسا
اک کرب ہے پوشیدہ تری بات میں کیسا

تو مجھ سے خفا ہے، یا کہ دنیا ہی سے ناراض
یہ زہر مجسم ہے تری ذات میں کیسا

کیوں سہمے ہوئے سمٹے ہوئے خوفزدہ ہو
سایہ کوئی دیکھا ہے تری گھات میں کیسا

یہ دن تو مشقت میں گزرتے ہیں سبھی کے
ہر پل ہوا بے چین، تری رات میں کیسا

جھکنے میں بھی رفعت ہے، ذرا سوچو تو یارو
جیتا ہے کہیں کوئی، مری مات میں کیسا

تم کس لیے خاموش ہو بولو تو مری جاں
اب ہم سے تغافل ہے مدارات میں کیسا

بے رخ ہوئے بیٹھے ہو یہ اچھا نہیں دیکھو
ہر ذرہ ہے پیاسا ارے برسات میں کیسا

وہ مجھ سے مخاطب ہے بہت دیر کے بعد آج
کچھ ہو گا بیاں ایسے اشارات میں کیسا

لفظوں سے کہااورکبھی نظروں کی زباں میں
طوفاں کا طلاطم ہے یہ جذبات میں کیسا