کوئٹہ(عبدالرزاق کھیتران )چائلڈ رائیٹس مومنٹ بلوچستان کے صوبائی کوارڈینیٹر میر بہرام لہڑی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ کہ سی ۔آر۔ا%d8%af%d8%b9یم پچھلے دس سالوں سے بچوں کے حقوق کے حوالے سے پورے بلوچستان میں سرگرم ہے۔20نومبر جو کہ بچوں کے حقوق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن 20نومبر 1989 میں یونائیٹڈنیشن نے پاس کیا تھا جس کو 26 سال ہو گئے ہیں اس کنونشن پر پاکستان نے بھی دستخط کئے تھے لیکن 26سال گزرجانے کے باوجود بچوں کو ان کے حقوق نہیں مل رہے۔2000ءمیں جوینائل جسٹس سسٹم آرڈیننس پورے پاکستان میں لاگو کیا گای مگرافسوس کہ اس آرڈیننس کو لاگو ہوئے 16سال ہوگئے مگر اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب قانون سازی کے اختیارات صوبائی حکومت کو دی گئیں ہیں۔صوبائی حکومت سست روی کامظاہرہ کر رہی ہے لہذا ہم صوبائی ھکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ درج ذیل قوانین صوبائی اسمبلی بلوچستان سے منظور کرائے۔چائلڈپروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بل،بورسٹل انسٹیٹیوشن بل،بریسٹ فیڈنگ اینڈ نیوٹریشن بل،ان تمام قوانین کو لاگو کرنا اور بچوں کے لئے اداروں کا قیام عمل میں لانا حکومت کا فرض ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے توسط درج زیل بل حکام بالا کے نوٹس میں لانا چاہوں گا ،بچوں پر تشدد اسکول اور مدرسوں میں ،کم عمری میں شادی کا بل ،چائلڈ لیبر بل، انہوں نے کہا کہ بچوں کے موجودہ قوانین پر جلد از جلد عمل درآمد کیا جائے ،بچوں کے لئے نئے قوانین بنائے جائےں،بچوں کے لئے بجت مختص کیا جائے ،تعلیمی ایمرجنسی کو باقی اضلاع تک بڑھایا جائے ، بچوں کے لئے معیاری خوراک کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے ۔ ہم وزیر اعلی بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری و دیگر حکام بالا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ا ن تمام مطالبات کو جلد از جلد منظور کریں تاکہ تمابچوں کو ان کے حقوق مل سکیں۔