ات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

لے گیا چھین کر کون آج تیرا صبر و قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی

چشمِ قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن
جیسے اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی

ان کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو
کہ طبیعت میری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی

عکس رُخ یار نے کس کی ہے تجھے چمکایا
تاب تجھ میں مہِ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی

کیا سبب تو جو بگاڑتا ہے ظفر سے ہر بار
خو تیری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی