اے دل والو گھر سے نکلو، دیتا دعوت عام ہے چاند
شہروں شہروں قریوں قریوں وحشت کا پیغام ہے چاند

تو بھی ہرے دریچے والی، آجا برسر بام ہے چاند
ہرکوئی جگ میںخودساڈھونڈے، تجھ بن بسےآرام ہے چاند

سکھیوں سے کب سکھیاں اپنے جی کے بھید چھپاتی ہیں
ہم سے نہیں تو اس سےکہہ دے، کرتا کہاں کلام ہےچاند

جس جس سے اسے ربط رہا ہے اور بھی لوگ ہزاروں ہیں
ایک تجھی کو بے مہری کا دیتا کیوں الزام ہے چاند

وہ جو تیرا داغ غلامی ماتھے پر لیے پھرتا ہے
اس کا نام تو انشا ٹھہرا، ناحق کو بدنام ہے چاند

ہم سے بھی دو باتیں کر لے کیسی بھگی شام ہے چاند
سب کچھ سن لے آپ نہ بولے، تیرا خوب نظام ہے چاند

ہم اس لمبے چوڑے گھر میں شب کو تنہا ہوتے ہیں
دیکھ کسی دن آمل ہم سے ، ہم کو تجھ سے کام ہے چاند

اپنے تو دل کے مشرق و مغرب اس کے رخ سے منور ہیں
بے شک تیرا روپ بھی کامل، بے شک تو بھی تمام ہے چاند

تجھ کو تو ہر شام فلک پر گھٹتا بڑھتا دیکھتے ہیں
اس کو دیکھ کے عید کریں گے، اپنا اور اسلام ہے چاند