اک روز کوئی تو سوچے گا
اک روز کوئی تو سوچے گا

فرزانوں کی اس بستی میں
اک شخص تھا پاگل پاگل سا
پر باتیں ٹھیک ہی کہتا تھا
بارش کی طرح پر شور نہ تھا
دریا کی طرح چپ رہتا تھا
جن سے اسے پیار بلا کا تھا
طعنے بھی انہیں کے سہتا تھا

اک شخص تھا پاگل پاگل سا
پر باتیں ٹھیک ہی کہتا تھا
اک روز کوئی تو سوچے گا

دنیا نے اسے کچھ بھی نہ دیا
پر اس نے جگ کو پیار دیا
جاں روتے روتے کھو بیٹھا
دل ہنتے ہنستے ہار دیا
جو نظم لکھی بھرپور لکھی
جو شعر دیا شہکار دیا
کیوں جیتے جی درگور ہوا
کس چاہ پہ تن من وار دیا
تھا دشمن کون بچارے کا
کس رنج نے اس کو مار دیا

اک روز کوئی تو سوچے گا
اور پہروں بیٹھ کر روئے گا