اٹک (محمد زاہد الحسینی سے ) اپریل فول منا نا اور اس پر خوشی کا اظہار کرناسراسر اسلام کے منافی ہے ، مسلمانوں کو غیر اسلامی رسموں سے اجتناب کرنا چاہئے آقا ؐ نے فرمایا جو جس قوم کے ساتھ مشابہت کرے گا اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا ، ان خیالات کا اظہار ضلعی امن کمیٹی کے ممبر ممتاز عالم دین علامہ رفاقت علی حقانی بانی و پرنسپل جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم رجسٹرڈ اٹک کینٹ نے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہاکہ شاہ اویس نورانی ، رفیق پردیسی،پیر نورالحق قادری کا ثالثی کا کردار بہت اہم رہا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت دھرنا قائدین کے ساتھ طے معائدہ جلد ازجلد پورا کرکے قوم کے سامنے سرخرو ہو،حکومت دھرنے سے قبل اٹک میں حاجی عارف حسین،مسعود گجر،ضیاء الرحمن نورانی، محمد رمضان اعوان پر جھوٹھے مقدمات و نظربندی ختم کرے،علامہ حقانی نے کہا کہ حکومت را کے ایجنڈوں اور سہولت کاروں کی بیخ کنی کرے،شریف لوگوں کو تنگ کرنے کے بجائے اپنا محاسبہ کرے،علامہ حقانی نے لبیک یارسول اللہ ؐ قافلے کے قائدین و شرکاء کو استقامت پر خراج تحسین پیش کیا اور ایک سوال کے جواب میں علامہ حقانی نے کہا کہ علماء کے اختلاف بھی امت کے لئے رحمت ہے،قوم کو چاہئے کہ دھرنے میں موجود اور باہر علماء ومشائخ پربدگمانی نہ کریں اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے،دھرنے میں شریک علماء ناموس رسالتؐکے لئے گئے تھے اقتدار کیلئے نہیں گئے تھے اسی لئے انکا پہلا مطالبہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نظام مصطفیؐ کا نفاذ ہے۔