یورو زون کے وزرائے خزانہ کے مطابق یونان کے نئے امدادی پیکیج پر مذاکرات اتوار کو قرض خواہوں کی شرائط پر منعقد ہونے والے ریفرینڈم سے پہلے نہیں ہو سکتے، جبکہ یونانی وزیراعظم نے عوام سے ریفرینڈم میں شرائط کو مسترد کرنے کی اپیل کی ہے۔

بدھ کو یونانی وزیراعظم نے معمولی تبدیلیوں کے ساتھ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سمیت ملک کے قرض خواہوں کی شرائط قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی تاہم انھوں نے تقریر میں عوام سے اپیل کی ہے کہ ریفرینڈم میں عالمی قرض خواہوں کی شرائط رد کر دیں۔

یونان کی جانب سے 30 جون کو آئی ایم ایف کی قسط ادا کرنے کی مہلت ختم ہونے سے کچھ لمحات پہلے یورو زون سے نئے بیل آؤٹ پیکیج کی درخواست کی گئی تھی۔

اس درخواست پر بدھ کو یورو زون کے وزرائے خزانہ کا ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس ہوا اور اس میں طے کیا گیا کہ یونان کی درخواست پر فیصلہ وہاں اتوار کو منعقد ہونے والے ریفرینڈم کے بعد کیا جائے گا۔

دوسری جانب یونانی وزیراعظم ایلکسس تسیپراس نے سرکاری ٹی وی چینل پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو منعقد ہونے والے ریفرینڈم میں عالمی قرض خواہوں کی کفایت شعاری کی شرائط کی نفی کر کے ملک کی بات چیت میں پوزیشن مضبوط کریں۔

اس کے بعد انھو ں نے ایک انٹرویو میں کہا: ’یورپ کے لیے یہ بہت ہی تاریک لمحات ہیں۔ انھوں نے ہمارے بینک بند کر دیے ہیں اور اس کا واحد مقصد کیا ہے؟ ہمیں بلیک میل کرنا، تاکہ ایک غیر مستحکم حل کے لیے ہاں کا ووٹ حاصل کر سکیں، یہ یورپ کے لیے بہت برا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اتوار کو قرض دہندگان کو یونان کے عوام کا واضح پیغام مل گیا، تو اب جب ان کے پاس کتنی بھی جلدی یہ پیغام پہنچے گا تو ان کے پاس جواب دینے کے لیے بہت کم وقت ہو گا۔‘

اس سے پہلے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو ملنے والے اُس خط کے مطابق جو یونانی وزیراعظم ایلکسس تسیپراس نے قرض خواہ اداروں کو لکھا ہے، یونانی حکومت نے وہ ساری شرائط ماننے پر آمادگی ظاہر کی ہے جو یورپی اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات میں تعطل پیدا ہونے سے پہلے عائد کی جا رہی تھیں۔

دوسری جانب یونان کی طرف سے شرائط قبول کرلینے کے امکان پر یورپی حصص بازاروں میں فوری تیزی دیکھنے میں آئی۔