کائنات کے بارے میں جاننا انسان کے شعور میں شامل ہے ، ورنہ اس زمین پر اور بھی بہت سے جاندار رہتے ہیں مگر ان کے لیے یہ زمین ہی سب کچھ ہے شاید انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی وجہ اُ س کا سوچنا ہے ۔ انسان نے اپنی غاروں کی زندگی سے نکل کر ترقی کرتے ہوئے آواز کی رفتار سے سفر کرنا ، نیٹ کے ذریعے دُ نیا کے ایک کونے پر بیٹھ کر دوسرے کونے پر آواز اور تصویر بھیجنا ، لاعلاج بیماریوں کا علاج کرنا، آسمان سے باتیں کرتی بلڈنگ بنانااور بھی نہ جانے کیا کچھ سیکھ لیا ہے ۔ آج ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اِنسان نے اپنی سوچ سے سمندراور آسمان کو فتح کرلیا ہے یعنی یہ دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے اور ہم آسمان سے دور سیاروں مثلاََمریخ پر نظررکھے ہوئے ہیں مگر اِ س کے باوجود کائنات کی وسعت کا اندازہ لگا نا ہمارے لئے بہت مشکل ہے کیاہم سوچ کے ذریعے کائنات کی وسعت ماپ سکتے ہیں؟ آئیں دیکھتے ہیں ۔ سب سے پہلے میرا اپنا وجود اِ س بات کی گواہی دے رہا ہے کہ کوئی ایک ایسی اعلیٰ چیز ہے جو اس ساری کائنات کو برقرار رکھے ہوئے ہے یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ اس کائنات میں لاتعدادسیارے موجود ہیں جو تمام کے تمام اپنے اپنے متعین کردہ راستوں پر گردش کر رہے ہیں مثلا ہماری زمین دیگر دوسروں سیاروں کے ساتھ مل کر سورج کے گرد گردش کر رہی ہے اور سورج بھی ایک کہکشاں کے گرد گردش کر رہا ہے ۔ اور وہ کہکشاں بھی کسی اور کہکشاں کے گرد گردش کر رہی ہو گی اِس طرح اربوں کھربوں سیارے ایک دوسرے کے گرد گردش کر رہے ہیں یہ تمام کے تمام سیارے گول ہیں ان میں سے کچھ زیادہ گول ہیں اور کچھ کم گول ہیں اور کچھ گول سیارے آپس میں جڑے ہوئے ہیں جدید سائنس یہ کہتی ہے کہ یہ تمام کے تمام سیارے گردش میں ہیں ۔ مگر میرے خیال میں اس کائنات میں ایک ساکن جسم بھی ہے یہاں پر میں اس ساکن جسم کوڈاٹ کا نام دیتا ہوں ڈاٹ گول نہ ہے اور نہ ہی گردش کرتا ہے بلکہ یہ صرف دائیں بائیں اوپر نیچے حرکت کر کے اپنے پہلے والی جگہ پر آجاتا ہے اسکی وسعت کھربوں کہکشاوں کا مجموعہ اور موٹائی اربوں کہکشاوں کامجموعہ ہے ۔ڈاٹ ہی سارے نظام کو کنٹرول کئے ہوئے ہے دوسرے لفظوں میں ڈاٹ کی ایک جگہ پر موجودگی سیاروں کے گردش کرنے کی وجہ ہے اور اِس سے خارج ہونے والی موجیں سیاروں کو گردش کرنے پر مجبور کر رہی ہیں اور اسی طرح کھربوں کہکشاں ڈاٹ کے گر د گردش کر رہی ہیں ۔ یہاں پر اِس سارے نظام کو ڈاٹ سسٹم کہوں گا ۔ یہ کہ اِس سارے ڈاٹ سسٹم میں کوئی دوسری اِنسان جیسی مخلوق نہ ہے ، مگرکوئی ایساسیارہ موجود ہے جس پر انسانی زندگی کی بنیادی چیزیں ہوا اور پانی سے ملتے جلتے عناصر موجود ہوں گے دُنیاکے بڑے بڑے سائنس دان انسانی شعور کی وضاحت کرنے میں ناکام رہے ہیں مگر اس کے باوجودیہاں پر ایک اور بات لکھ دیتا ہوں کہ یہ دُنیا فنا ہو جائے گی، مگر اِنسان اِس کائنات کے بارے میں مکمل طور پر نہ جان پائے گا۔ سرسری طور پر دیکھیں تو یہ خیال ایک فضول سی چیز معلوم ہو تی ہے ۔ بَھلا یہ کیسے ممکن ہے اِس کائنات میں اتنا وسیع ایک ساکن جسم ہواوروہ ہمیں نظر نہ آئے بہر حال اس کا جواب وقت دے گا۔ یہاں پر مثال کے طور پر کوانٹم مکینکس کا نظریہ پیش کرنا چاہتا ہوں کوانٹم مکینکس کیمطابق کسی ذرہ کی ایک مقام پر موجودگی اور حرکت دونوں کو مکمل طور پر نہیں ماپا جاسکتا اور اِن پیمائشوں میں باہمی طور پر ہمیشہ ایک غیر یقینت بر قرار رہتی ہے ۔ جب یہ نظریہ سامنے آیا تو اُس وقت کے مشہور سائنس دانوں کے تاثرات درج ذیل ہیں *اگر کوانٹم مکینکس درست ہے تو یہ طبیعات کے بطور ایک سائنس خاتمہ کی دلیل ہے (البرٹ آئن سٹائن )*ایسے لوگ جو پہلی بار کوانٹم مکینکس کا سامنا کرتے ہوئے پریشان نہ ہوئے ہوں وہ ممکنہ طور پر اسے سمجھ نہیں سکے(نیل بوہر)لیکن اِن سب باتوں کے باوجود بعد میں اِس نظریہ نے سائنس میں اہمیت اختیار کی اور لیزر، موبائل فونز، ایل سی ڈی، ایٹمی توانائی ، وغیرہ کی ایجادات اِس نظریہ کی مرہون منت ہیں ۔اِس طرح فی الحال ڈاٹ ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔ اِس کو جاننے کیلئے ہمیں بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ مثلاََ ڈاٹ سے خارج ہونے والی موجیں تلاش کرنا اور سورج کی روشنی کی جگہ ان موجوں کو بنیادی اکائی ماننا اور ڈاٹ کی طرف جانے کیلئے اتنا لمبا سفر جس کو شمار کرنے کیلئے ہماری گنتی میں عدد نہیں اس سفر کو طے کرنے کیلئے انسان کا تخلیق کردہ خلائی راکٹ ناکام ہے اس کیلئے ہمیں قدرتی طور بناایسا سیارہ تلاش کرنا ہے جس کا مدار ہماری کہکشاں سے بہت دور ہو اور وہ ہمیں بطور خلائی سٹیشن کام دے سکے وغیرہ وغیرہ،۔ایک وضاحت کرتا چلوں کہ یہ سب باتیں محض ایک خیال ہے کسی سائنسی تجربہ کا نتیجہ نہ ہیں میری سوچ کا مرکز صر ف اور صرف آیت الکرسی کی ایک چھوٹی سی آیت ہے جس کا ترجمہ ہے کہ (اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے )آخر میں صرف اتنا کہناچاہوں گا کہ یہ دنیاامید پر قائم ہے ۔ تحریر رانا ریاض حسین کالم نگار